انجمن ترقی اردو (ہند) اردو کے ایک قومی ادارے کے طور پر اپنی درخشندہ ماضی اور پُروقار حال پر فخر کرنے میں حق بہ جانب ہے۔ انجمن کبھی کسی سیاسی پارٹی، تحریک یا نظریات سے وابستہ نہیں رہی، اسی لیے، یہ اردو کے فروغ اور اردو ہندی کے درمیان اُس کھائی کو پاٹنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوئی جو انیسویں صدی کے اردو ہندی تنازعے کی وجہ سے مشترکہ تہذیب و ثقافت کے لیے زبردست خطرہ تھی۔ انجمن کا قیام سرسیّد احمد خاں کے ذریعے 1886 میں آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کی ایک شاخ کے طور پر وجود میں آیا، جس نے 1903 میں قومی نظریات کے حامل اردو کے ایک مستقل ادارے کی حیثیت اختیار کرلی۔ مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے معلنہ مقاصد میں ہندستانی مسلمانوں کے درمیان جدید تعلیم کو فروغ دے کر ان کے نظامِ حیات کو جدید اقدار سے اس طرح روشناس کرانا تھا کہ وہ ہر قسم کے سیاسی نظریات سے دور رہے۔ سرسیّد نے مسلمانوں کو ہر قسم کی سیاست سے دور رہنے کی تلقین اُس وقت کی جب یہ طے ہوچکا تھا کہ 1857 کی ناکام بغاوت کے بعد رائج نئے نظام کی سیاست سے کسی بھی فرقے کی دوری اس کے لیے خودکشی کے مترادف ہوگی۔ یہ بات دل چسپ ہے کہ 1898 میں سرسیّد کے انتقال کے صرف آٹھ برس بعد مسلم لیگ کے قیام میں آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے فیصلہ کن رول نے یہ ثابت کردیا کہ سرسیّد تحریک تو علاحدگی پسند سیاست کی ہم نوا بن گئی تھی۔ مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے تین شعبے تھے: تعلیمِ نسواں (وومین ایجوکیشن)، Educational Cansus and School اور شعبۂ ترقیِ اردو۔ یہی شعبۂ ترقیِ اردو 1903 میں شبلی کی سیادت میں ایک مستقل ادارے کی شکل میں انجمن ترقی اردو کے نام سے موسوم ہوا۔ علامہ شبلی نعمانی شبلی، سرسیّد کی زندگی میں ہی علی گڑھ تحریک سے نظریاتی اختلافات کے سبب علاحدہ ہوگئے تھے۔ بعد میں مولانا آزاد کے نیشنلسٹ نظریات نے انھیں فیصلہ کن انداز میں متاثر کیا۔ 1903 میں مولانا آزاد، شبلی کے نائب کے طور پر انجمن سے وابستہ ہوگئے اور تمام عمر اس ادارے کے آزادانہ وجود کے ساتھ فروغ کے لیے کوشاں رہے۔ ابتداً انجمن کا نام ’’انجمنِ ترقّیِ اردو‘‘ لکھا جاتا تھا۔ 1913 میں جب انجمن اورنگ آباد منتقل ہوگئی تو اِس کا نام ’’انجمنِ ترقّیِ اردو اورنگ آباد دکن‘‘ لکھا جانے لگا اور 1936 میں انجمن کے دہلی منتقل ہونے کے بعد اِس کے نام کے ساتھ ’’ہند‘‘ کا اضافہ ہوگیا اور یہ نام ’’انجمنِ ترقّیِ اردو ہند‘‘ ہوگیا۔ 1950 کے بعد یہ نام بغیر اضافت کے ’’انجمن ترقی اردو (ہند)‘‘ کے طور پر عام ہوا۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انجمن کے نام کے ساتھ ’’ہند‘‘ کا اضافہ تقسیمِ ہندستان کے بعد ہوا جو صحیح نہیں ہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد مولوی عبدالحق نے پاکستان میں انجمن ترقی اردو کو قائم کیا جس کا ظاہر ہے اصل انجمن سے جو غیر منقسم ہندستان میں قائم ہوئی اور تقسیم کے بعد بھی یہیں رہی، کوئی واسطہ نہ تھا۔ تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے بعد خصوصاً آئین ساز اسمبلی کی مباحث میں اردو ہندی اور ہندستانی سے متعلق انجمن کے نظریات نے آئینِ ہند میں اُن شقوں کی شمولیت میں فیصلہ کن رول ادا کیا جن کا تعلق اردو ہندی اور ہندستانی کی بحثوں سے تھا۔ بدقسمتی سے آئینِ ہند میں ’’ہندستانی‘‘ کے ساتھ سخت ناانصافی ہوئی اور اسے ہندی کی شیلی تسلیم کیا گیا۔ 1903 سے 1980 تک انجمن ہندستان کا سب سے اہم ادارہ تھی اور آج ہندستان میں اردو کے جتنے بھی ادارے ہیں جن میں یونی ورسٹیوں کے شعبہ ہاے اردو بھی شامل ہیں، ان سب کے قیام کا سہرا صرف اور صرف انجمن ترقی اردو (ہند) کو جاتا ہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد انجمن علی گڑھ منتقل ہوگئی جہاں بدقسمتی سے یونی ورسٹی کے اربابِ اختیار نے اِسے یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو کے ذیلی شعبے میں تبدیل کردیا مگر ساتویں دہائی کے وسط میں انجمن کے دہلی آنے کے بعد یہ اپنے خود مختار وجود کی بازیابی میں ایک مرتبہ پھر کامیاب ہوگئی۔ اِس وقت انجمن کی تقریباً 600 شاخیں ملک کے طول و عرض میں متحرک اور فعال ہیں جو اردو کے مستقل بالذات زبان کے وجود اور برِّصغیر میں اردو کے وقیع ترین ادب کے طور پر اِس کے ہمہ جہتی فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔